لبنان اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی

 یہ ایک بڑی خبر ہے جو لبنان اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی نشاندہی کرتی ہے۔ آج کی اسرائیلی فضائی کارروائی میں 37 لبنانی شہید ہو گئے ہیں اور 150 سے زائد زخمی ہیں، جس کی وجہ سے انسانی جانوں کا بڑا نقصان ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی لبنان کی سرحد پر حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیل کے 20 فوجیوں کو ہلاک اور درجنوں کو زخمی کیا ہے، اور پانچ ٹینکوں کو تباہ کر دیا ہے۔ حزب اللہ کے مطابق یہ کارروائی ان اسرائیلی فوجیوں کے خلاف تھی جو لبنان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔


اسرائیل کا جنگی جنون

اسرائیلی حملے کی وجہ سے لبنان کی کافی شہری عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں، جس کے نتیجے میں 37 افراد شہید اور تقریباً 150 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حزب اللہ کے موجودہ سربراہ حسن نصراللہ کی جگہ ممکنہ طور پر قیادت سنبھالنے والے رہنما ہاشم صفی الدین کو بھی شہید کر دیا ہے، لیکن اس دعوے کی ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں مزید اموات کی اطلاعات ہیں۔


تازہ ترین رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں اور توپ خانے کی فائرنگ سے غزہ میں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ موجودہ صورتحال میں ہسپتال زخمیوں سے بھر چکے ہیں اور طبی امداد کی کمی کا سامنا ہے۔

آج، 4 اکتوبر 2024 تک غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد 41,802 ہو چکی ہے، جبکہ 96,844 افراد زخمی ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 14 افراد جاں بحق ہوئے 

حزب اللہ کا بھرپور جواب

حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے لبنان کی سرحد پر دراندازی کرنے کی کوشش کی، جس کا بھرپور جواب دیا گیا۔ اس جھڑپ کے نتیجے میں حزب اللہ کے مطابق اسرائیلی فوج کو پسپائی اختیار کرنی پڑی اور اسرائیل کے 20 فوجی ہلاک ہو گئے، جبکہ درجنوں زخمی بھی ہوئے ہیں۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ وہ لڑائی کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور اگر زمینی جنگ شروع ہوتی ہے تو وہ اسرائیلی فوج کا بھرپور مقابلہ کریں گے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا آج جمعہ کے خطب 


ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے آج جمعہ کے خطبے میں کہا کہ اسرائیل کو اس کے جرائم کی بہت کم سزا ملی ہے اور اسے سخت ترین سزا ملنی چاہیے۔ یہ بیان اس وقت آیا ہے جب دو دن پہلے ایران نے اسرائیل پر سیکڑوں راکٹ، ڈرونز اور بیلسٹک میزائل داغے تھے، جن میں سے کچھ کو اسرائیلی فضائی دفاعی نظام ناکام بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

آیت اللہ خامنہ ای کا یہ بیان اس بات کا اشارہ ہے کہ ایران اسرائیل کے خلاف اپنے مؤقف پر سختی سے قائم ہے اور مزید سخت ردعمل کا مطالبہ کر رہا ہے