"ڈریکولا" کا اصل کردار تاریخ کے ایک معروف حکمران ولاد دی ایمپیلر سے متاثر ہو کر بنایا گیا تھا، لیکن ڈریکولا کی افسانوی شکل کو معروف انگریزی ناول نگار بریم سٹوکر نے اپنے 1897 کے ناول "Dracula"
میں متعارف کرایا۔ ولاد دی ایمپیلر، جسے ولاد سوم یا ولاد ڈریکولا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، 15ویں صدی میں والاچیا (جدید دور کا رومانیہ) کا حکمران تھا۔ وہ 1431 میں پیدا ہوا اور اپنی ریاست کا دفاع کرنے کے لئے انتہائی سفاکانہ حکمت عملیوں کی وجہ سے بدنام ہوا، خاص طور پر سلطنت عثمانیہ کی جارحیت کے خلاف۔ اس کا لقب "ایمپیلر" اس کے پسندیدہ سزا دینے کے طریقے سے آیا، جس میں وہ اپنے شکار کو نوکیلی لاٹھیوں پر چڑھا کر چھوڑ دیتا تھا، جس سے مرنے والے کو طویل اور تکلیف دہ موت کا سامنا کرنا پڑتا۔ ولاد تین بار حکمران بنا: 1448، 1456–1462، اور مختصر طور پر 1476 میں، جب اسے قتل کر دیا گیا۔ اپنی بدنام زمانہ بربریت کے باوجود، ولاد کو بہت سے رومانی باشندے ایک قومی ہیرو کے طور پر دیکھتے ہیں کیونکہ اس نے عثمانیوں کے خلاف مزاحمت کی تھی۔ اس کی کہانی نے بریم سٹوکر کے 1897 کے ناول "ڈریکولا" کے خیالی کردار کو جنم دیا، حالانکہ ڈریکولا کا یہ خیالی کردار تاریخی حقیقت سے بہت مختلف ہے۔ ولاد کی بے رحمی: سفاکیت کی داستانیں امپیلمنٹ کا طریقہ ولاد دی ایمپیلر کی سب سے مشہور اور سفاک ترین سزا "امپیلمنٹ" تھی۔ اس میں مجرم یا دشمن کو ایک لمبی نوکیلی لاٹھی پر چڑھا دیا جاتا تھا، جس کا نچلا سرا زمین میں گاڑ دیا جاتا تھا۔ اس عمل کے دوران انسان کو آہستہ آہستہ لاٹھی کے ذریعے اس کے جسم کے اندر سے گزارا جاتا، جو انتہائی تکلیف دہ موت تھی۔ اس سے موت فوراً نہیں ہوتی بلکہ گھنٹوں یا دنوں میں ہوتی، اور مرنے والے کی چیخیں دور دور تک سنائی دیتی تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ ولاد نے ایک بار 20,000 ترک فوجیوں کو امپیل کیا تھا اور اس کے بعد عثمانی فوج کے سامنے ایک پورا "امپیلڈ جنگل" تیار کیا تاکہ ترک فوج کو خوفزدہ کر سکے۔ یہ حربہ انتہائی نفسیاتی تھا اور دشمن کے حوصلے پست کرنے میں بہت کامیاب رہا۔ مہمان نوازی کی مثال ایک اور سفاک واقعہ ولاد کی "مہمان نوازی" سے منسلک ہے۔ ایک بار اس نے اپنے دربار میں غریبوں، بھکاریوں، اور معذور افراد کو کھانے پر مدعو کیا۔ جب وہ سب پیٹ بھر کر کھانے میں مصروف تھے، ولاد نے دروازے بند کر دیے اور ہال میں آگ لگا دی، جس میں سینکڑوں افراد جل کر مر گئے۔ ولاد کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ملک سے غربت اور بیماری کا خاتمہ کر رہا ہے، اور ایسے لوگوں کا مرنا ہی بہتر ہے۔ عثمانی سفیروں کا انجام ایک اور مشہور واقعہ وہ ہے جب سلطنت عثمانیہ کے سفیر اس کے دربار میں آئے اور اپنے مذہبی عمامے اتارنے سے انکار کر دیا۔ ولاد نے اس بے ادبی کو برداشت نہیں کیا اور حکم دیا کہ ان کے عمامے ان کے سروں پر کیلوں سے جڑ دیے جائیں تاکہ وہ انہیں کبھی نہ اتار سکیں۔ یہ سفارتکاری کی دنیا میں ولاد کی بے رحمی اور غیر متوقع فیصلوں کی مثال ہے۔ قانون اور انصاف کا نفاذ ولاد اپنی ریاست میں سخت قوانین کے نفاذ کے لئے بھی جانا جاتا تھا۔ وہ انصاف کا بہت بڑا حامی تھا، لیکن اس کا طریقہ انتہائی ظالمانہ تھا۔ ایک کہانی مشہور ہے کہ اس نے اپنے دارالحکومت کے مرکزی چوراہے میں سونے کا ایک کپ رکھا تاکہ کوئی بھی آ کر پانی پی سکے۔ یہ کپ وہاں کئی مہینے پڑا رہا اور کوئی اسے چرانے کی ہمت نہیں کر سکا، کیونکہ سب جانتے تھے کہ چوری کی سزا موت ہوگی۔ سلطنت کی صفائی ولاد کو اپنی ریاست کی صفائی اور عوامی خدمات کو بہتر بنانے کا بھی شوق تھا، لیکن اس کے طریقے انتہائی خوفناک تھے۔ وہ بھکاریوں، معذوروں اور بیمار لوگوں کو اپنی ریاست کا بوجھ سمجھتا تھا، اور ان کا صفایا کرنے کے لئے اجتماعی قتل کرواتا۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ لوگ ریاست کی ترقی میں رکاوٹ ہیں اور ان کا خاتمہ ضروری ہے۔ ظلم اور خوف کا نتیجہ ولاد دی ایمپیلر کی ظلم و ستم کی حکمرانی کا مقصد صرف دشمنوں کو سزا دینا نہیں تھا بلکہ اس کے ذریعے اپنے لوگوں کو بھی سخت پیغام دینا تھا کہ وہ اس کے قوانین کی خلاف ورزی نہ کریں۔ خوف ولاد کی حکومت کا بنیادی ستون تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کے نام سے لوگ کانپ اٹھیں، چاہے وہ دشمن ہوں یا اس کے اپنے شہری۔ ولاد کی موت اور ظالمانہ میراث 1476 میں ولاد کی آخری جنگ میں شکست اور موت نے اس کے ظالمانہ دور کا خاتمہ کر دیا، لیکن اس کی داستان آج بھی زندہ ہے۔ اس کی سفاکیت نے اسے تاریخ کا ایک بدنام ترین حکمران بنا دیا، جسے دنیا "ظالم بادشاہ" کے طور پر یاد کرتی ہے۔ اس کی کہانی نے ڈریکولا جیسے خوفناک افسانوی کردار کو جنم دیا، لیکن اس کی اصل زندگی افسانے سے بھی زیادہ بھیانک اور سفاک تھی۔ کیا ولاد ایک ظالم بادشاہ تھا یا ہیرو؟ یہ سوال آج بھی بحث کا موضوع ہے۔ ولاد نے اپنے دشمنوں کو سفاک طریقوں سے ختم کیا، لیکن اس کا مقصد اپنے ملک والاچیا کو عثمانی تسلط سے آزاد رکھنا تھا۔ بعض رومانی لوگ آج بھی اسے ایک قومی ہیرو مانتے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر وہ ظالم حکمرانوں کی فہرست میں شامل کیا جاتا ہے۔ اگرچہ ولاد دی ایمپیلر کو ایک قومی ہیرو سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کی ظالمانہ حرکتوں نے اسے تاریخ کے بدترین حکمرانوں میں سے ایک بنا دیا۔ اس کی سفاکیت کی داستانیں آج بھی دنیا بھر میں مشہور ہیں، اور اس کے کردار کو ظلم اور خوف کی علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔