حضرت عمر فاروق رضی الله عنہ کا واقعۂ شہادت..
___________________________________
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں جتنی فتوحات ہوئی اس کی دنیا میں کہیں بھی مثال نہیں ملتی.. آپ رضی اللہ عنہ کی شان و شوکت اور فتوحات اسلامی سے باطل قوتیں پریشان تھیں.. "فیروز" نامی پارسی مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا غلام تھا.. وہ چکیاں بنانے میں ماہر تھا.. حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت میں ایرانی فتوحات سے اس قدر نالاں تھا کہ اس کے دل میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے انتقام لینے کی آگ بھڑک رہی تھی..
ایک روز وہ اپنے مالک کی شکایت لے کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اپنے آقا کے بھاری محصول مقرر کرنے کی شکایت کی کہ اس کے آقا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اس سے روزانہ چار درہم وصول کرتے ہیں , آپ اس میں کمی کرا دیجئے..
آپ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا.. "کتنا محصول وصول کرتا ہے..؟" بتایا.. "چار درہم یومیہ.." آپ نے فرمایا.. "پھر تو تمہارے فن اور کاریگری کے لحاظ سے مناسب ہے , زیادہ نہیں ہے.."
یہ جواب سن کر وہ غصّے میں آگ بگولہ ہوگیا اور آپ رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کا مکمل ارادہ کرلیا..
پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا.. "سنا ہے تم چکیاں بہت اچھی بناتے ہو.. ایک چکی مجھے بھی بنا کے دو.."
اس نے کہا.. "آپ کو میں ایسی چکی بنا کے دوں گا جس کی دھوم ساری دنیا میں ہو گی.."
اس کے جانے کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے وہاں موجود صحابہ کرام سے فرمایا.. "یہ شخص مجھے قتل کی دھمکی دے کر گیا ہے.."
صحابہ کرام نے عرض کی.. "اے امیر المومنین ! حکم دیں اس کو گرفتار کر لیں.."
آپ رضی اللہ عنہ کا عدل دیکھئے ___ فرمایا.. "اس نے مجھے دھمکی ضرور دی ہے مگر اقدام جرم نہیں کیا لہذا تعزیر نہیں لگائی جا سکتی.."
26 ذوالحجہ 23 ھ بدھ کے دن آپ رضی اللہ عنہ حسب معمول نمازِ فجر کے لیے مسجد میں تشریف لائے اور نماز شروع کروائی.. ابھی تکبیرِ تحریمہ ہی کی تھی کہ فیروز جو مسجد کے محراب میں چھپا ہوا تھا , زہر آلود خنجر لے کر دوران نماز آپ رضی اللہ عنہ پر حملہ آور ہوا اور متواتر چھ وار کئے.. حملہ کرنے کے بعد پیچھے پلٹا اور بھاگتے ہوئے تیرہ نمازیوں پر حملہ کیا جن میں سے سات شہید ہوگئے.. ایک نمازی نے آگے بڑھ کر اس پر کپڑا ڈالا اور اسے پکڑ لیا.. جب اس بدبخت نے دیکھا کہ اب میں پکڑا جا چکا ہوں تو اپنے ہی خنجر سے خودکشی کرلی.. حضرت عمر رضی اللہ عنہ زخم کے صدمے سے گر پڑے اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی..
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو لوگ اٹھا کر گھر لائے.. سب سے پہلے انھوں نے پوچھا کہ میرا قاتل کون تھا..؟ لوگوں نے کہا کہ فیروز.. فرمایا.. "الحمدللہ ! میں ایسے شخص کے ہاتھ سے نہیں مارا گیا جو اسلام کا دعوٰی رکھتا تھا.."
لوگوں کا خیال تھا زخم چنداں کاری نہیں ہے , شفا ہو جائے گی.. چنانچہ ایک طبیب بلایا.. اس نے نبید اور دودھ پلایا.. دونوں چیزیں زخم کی راہ باہر نکل آئیں.. یہ دیکھ کر آپ کو یقین ہو گیا کہ میری شہادت کی خواہش ضرور پوری ہوگی چنانچہ اپنے بیٹے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا.. "حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جائو.. میرا سلام کہنا اور درخواست پیش کرنا کہ عمر (رضی اللہ عنہ) آپ سے اجازت طلب کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں دفن کیا جائے.."
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے.. وہ رو رہی تھیں.. حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا سلام کہا اور پیغام پہنچایا.. حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا.. "اس جگہ کو میں اپنے لئے محفوظ رکھنا چاہتی تھی لیکن آج میں عمر رضی اللہ عنہ کو اپنے آپ پر ترجیح دوں گی.. کوئی اور ہوتا تو میں انکار کر دیتی لیکن حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو کیسے انکار کروں جس نے مشکل کے وقت میرا ساتھ دیا تھا.."
عبداللہ رضی اللہ عنہ واپس آئے.. لوگوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خبر کی.. بیٹے کی طرف مخاطب ہوئے اور کہا.. "کیا خبر لائے..؟" انہوں نے فرمایا.. "جو آپ چاہتے تھے.." فرمایا.. "یہی سب سے بڑی آرزو تھی.."
پھر حاضرین محفل کو ایک بار پھر وصیت کی.. "جب میرا انتقال ہو جائے تو میری میت اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے دروازے پہ جا کر رکھ دی جائے.. میرے چہرے سے کفن ہٹا دیا جائے اور ایک مرتبہ پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روضہ اقدس میں تدفین کی اجازت طلب کی جائے.. اگر وہ اس امر کی اجازت دیں تو ٹھیک ہے ورنہ مجھے جنت البقیع میں دفن کردیا جائے.. اس لیے کہ کل کوئی یہ نہ کہے کہ عمر نے زبردستی یا طاقت کے ذریعے یہ جگہ حاصل کرلی.."چنانچہ ایسے ہی کیا گیا..
اس وقت اسلام کے حق میں جو سب سے اہم کام تھا وہ ایک خلیفہ کا انتخاب کرنا تھا.. تمام صحابہ بار بار حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے درخوست کرتے تھے کہ اس مہم کو آپ طے کر جائیے.. حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خلافت کے معاملے پر مدتوں غور کیا تھا اور اکثر سوچا کرتے تھے.. بار بار لوگوں نے ان کو اس حالت میں دیکھا کہ سب سے الگ متفکر بیٹھے ہیں اور کچھ سوچ رہے ہیں.. دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ خلافت کے باب میں غلطان و پیچان ہیں.. غرض وفات کے وقت جب لوگوں نے اصرار کیا تو چھ اشخاص کو منصب خلافت کے لئے نامزد کیا کہ ان میں سے کسی ایک کو جس پر باقی پانچوں کا اتفاق ہوجائے , اس منصب کے لئے منتخب کرلیا جائے.. ان لوگوں کے نام یہ ہیں..
علی رضی اللہ عنہ , عثمان رضی اللہ عنہ , زبیر رضی اللہ عنہ , طلحہ رضی اللہ عنہ , سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ , عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ..
اس کے بعد مہاجرین , انصار , اعراب اور اہل ذمہ کے حقوق کی طرف توجہ دلائی اور اپنے صاحبزادے عبداللہ رضی اللہ عنہ کو وصیت کی کہ مجھ پر جس قدر قرض ہو اگر وہ میرے متروکہ مال سے ادا ہوسکے تو بہتر ہے ورنہ خاندان عدی سے درخواست کرنا اور اگر ان سے نہ ہوسکے تو کل قریش سے لیکن قریش کے سوا اور کسی کو تکلیف نہ دینا..
غرض اسلام کا ایک عظیم ہیرو ہر قسم کی ضروری وصیتوں کے بعد تین دن بیمار رہ کر محرم کی پہلی تاریخ ہفتہ کے دن 24 ھ میں واصل بحق ہوا.. بوقتِ وفات آپ رضی اللہ عنہ کی عمر تریسٹھ برس تھی.. حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کی نمازِ جنازہ پڑھائی.. حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ , حضرت علی رضی اللہ عنہ , حضرت عثمان رضی اللہ عنہ , حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ , حضرت سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ , حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے قبر میں اتارا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اجازت سے روضہ مبارکہ کے اندر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پہلوئے انور میں مدفون ہوئے اور اپنے محبوب آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں ہمیشہ کے لئے میٹھی نیند سو رہے..
_____________________________
اللہ کریم
ہمین صراط مستقیم پہ باعمل رہنے کی توفیق دے اور جذبہ فاروقی رضی اللہ تعالیٰ سے نوازے کہ جسے دیکھ کر شیطان مردود بھی اپنی راہ بدل جاتا تھا۔۔۔!!

0 تبصرے