مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی

 اسرائیل کے وزیر اعظم جنگ کی جنون میں مبتلا ہیں۔ وہ کسی بھی ملک پر حملہ کر رہے ہیں جس سے انہیں مزاحمت یا اختلاف کا خطرہ محسوس ہوتا ہے کیونکہ ان کا ارادہ پورے مشرق وسطیٰ کو آگ میں جھونکنے کا ہے۔

اس پس منظر میں، انہوں نے ایران کو دھمکیاں دیتے ہوئے آج کئی مسلم ممالک پر حملے کیے ہیں۔


غزہ پر حملہ:

1 اکتوبر 2024 کو، اسرائیل کے بمباری کے نتیجے میں غزہ شہر میں ایک اسکول میں کم از کم سات افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ اسکول اقوام متحدہ کی امداد اور کام کی ایجنسی (UNRWA) کی سرپرستی میں پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہا تھا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس نے اس اسکول کو کمانڈ سینٹر کے طور پر استعمال کیا۔ یہ واقعہ حالیہ دنوں میں غزہ کے اسکولوں پر اسرائیلی بمباری کی ایک کڑی ہے جس نے متعدد شہریوں کی جانیں لی ہیں۔ مزید برآں، اسرائیل نے لبنان میں فضائی حملے بھی کیے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی

لبنان پر حملہ:

1 اکتوبر 2024 کو، اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی زمینی کارروائیاں بڑھانا شروع کیں۔ یہ سرگرمیاں اسرائیل کے شمالی علاقوں کے خطرات کے خلاف "محدود" دائرہ کار میں کی جا رہی ہیں۔ اسرائیلی کمانڈوز جنوبی لبنان کی کمیونٹیز میں حزب اللہ کی بنیادوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

اس کے علاوہ، زمینی افواج اسرائیلی فضائیہ اور آرٹلری کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ یہ کارروائیاں حالیہ دنوں میں حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ پر حملوں کی توسیع ہیں۔

تقریباً 63,000 اسرائیلی شہریوں کو لبنان کے قریب تین شہروں کو بند کرنے کے نتیجے میں اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور کیا گیا ہے۔ اس دوران، لبنان میں تقریباً ایک ملین بے گھر افراد ہیں۔

اسرائیلی فضائیہ نے شام میں کئی مختلف مقامات پر ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا اور حزب اللہ کی بنیادوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔ یہ حملے شام میں جاری شہری بے چینی اور ایران کی بڑھتی ہوئی فوجی موجودگی کے ساتھ منسلک ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں اس کی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں کیونکہ ایرانی ملیشیا کی سرگرمیاں اس کے خلاف خطرہ بڑھا رہی ہیں۔

ان فضائی حملوں کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں، اور کئی مقامات پر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔ اسرائیل نے ان حملوں کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ وہ شام میں ایران کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

شام میں جاری جنگوں میں حکومت، باغیوں، اور مختلف ملیشیاؤں کے متعدد فریقین شامل ہیں، جو کہ خطے میں پہلے ہی غیر مستحکم صورت حال کو بڑھا رہے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی

یمن پر حملہ:

اسرائیل نے حالیہ دنوں میں یمن کے کئی مقامات پر ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ حملے اس وقت ہوئے ہیں جب ایران کی یمن میں جاری خانہ جنگی میں اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں اس کی سیکیورٹی کے لیے ضروری ہیں کیونکہ ایران یمن سے اسرائیل کے خلاف حملوں کی تیاری کر رہا ہے۔

فضائی حملے مختلف یمنی مقامات پر کیے گئے جہاں ان گروہوں کے اڈے ہیں۔ ان فضائی حملوں کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں، اور بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ یمن کے موجودہ تنازعے میں سعودی عرب، ایران، اور مقامی ملیشیاؤں سمیت کئی فریق شامل ہیں، جو کہ علاقائی کشیدگی کو بڑھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

حزب اللہ اور عراقی ملیشیاؤں کا ردعمل:

ان تمام حملوں کے باوجود، حزب اللہ محاذ پر ڈٹا ہوا ہے اور اس نے اسرائیل کی جانب کئی راکٹ اور میزائل فائر کیے ہیں۔

ایران کی حمایت یافتہ عراقی ملیشیاؤں نے بھی عراق سے اسرائیل کے خلاف ڈرونز اور راکٹ فائر کیے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جنگ اب رکنے والی نہیں ہے۔

https://noohapou.com/4/8189041