یوکرین جنگ، جو 24 فروری 2022 کو روس کی طرف سے یوکرین پر حملے کے بعد شروع ہوئی، دو سال سے زیادہ عرصے تک جاری رہی ہے اور اس کے گہرے اثرات دنیا بھر پر مرتب ہوئے ہیں۔ اس جنگ کا پس منظر طویل عرصے تک جاری رہنے والے روسی یوکرینی تنازعات پر مبنی ہے، خاص طور پر 2014 میں کریمیا کے روس کے ساتھ الحاق اور مشرقی یوکرین میں علیحدگی پسندوں کی حمایت۔
جنگ کی اہم مراحل:
ابتدائی حملہ (فروری 2022): روس نے یوکرین کے مختلف شہروں اور علاقوں پر بڑے پیمانے پر حملے شروع کیے، جس میں دارالحکومت کیف اور دیگر اہم شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔ یوکرین کی افواج نے حیرت انگیز مزاحمت کا مظاہرہ کیا، اور روس کو فوری کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔
یوکرین کی مزاحمت: یوکرین کی فوج نے مغربی ممالک سے موصول ہونے والے فوجی ساز و سامان اور تربیت کے ساتھ مزاحمت کی۔ روس کو کیف پر قبضہ کرنے میں ناکامی ہوئی، اور اسے کئی محاذوں پر پسپائی کا سامنا کرنا پڑا۔
مغربی حمایت: امریکہ، یورپی یونین اور نیٹو کے رکن ممالک نے یوکرین کو وسیع پیمانے پر مالی، فوجی اور سفارتی امداد فراہم کی، جس نے یوکرین کی مزاحمتی قوت کو بڑھایا۔ روس پر اقتصادی پابندیاں عائد کی گئیں، جو اس کی معیشت پر شدید اثرات ڈالیں۔
ڈونباس میں جنگ: جنگ کا مرکز یوکرین کے مشرقی علاقوں میں منتقل ہو گیا، خاص طور پر ڈونباس کے علاقے میں، جہاں شدید لڑائیاں ہوئیں۔ روس نے اس علاقے پر زیادہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی، جب کہ یوکرین نے اپنی سرزمین کا دفاع کیا۔کریمیائی پل پر حملے: اکتوبر 2022 میں کریمیائی پل پر ایک دھماکہ ہوا، جسے روس کے لیے ایک اہم سپلائی روٹ سمجھا جاتا ہے۔ روس نے اسے دہشت گردی قرار دیا اور اس کے جواب میں یوکرین پر میزائل حملے تیز کر دیے۔
جوہری خطرات: روس کی طرف سے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکیاں بین الاقوامی سطح پر تشویش کا باعث بنیں۔ اس سے عالمی سلامتی پر بڑے اثرات مرتب ہو سکتے تھے، لیکن ابھی تک جوہری ہتھیار استعمال نہیں کیے گئے۔
امن مذاکرات اور ناکامی: جنگ کے دوران کئی بار امن مذاکرات کی کوششیں کی گئیں، لیکن کوئی ٹھوس نتائج سامنے نہیں آئے۔ دونوں فریقین کے مطالبات ایک دوسرے سے متصادم رہے۔
تازہ صورتحال:
2024 تک جنگ جاری ہے، اور دونوں طرف سے انسانی اور مادی نقصانات بہت زیادہ ہیں۔ یوکرین کی فوج بعض علاقوں میں کامیابیاں حاصل کر رہی ہے، جبکہ روس اب بھی مشرقی علاقوں پر قابض ہے۔ مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کی حمایت مسلسل جاری ہے، اور یہ جنگ عالمی سیاست کا ایک اہم موضوع بن چکی ہے۔
یوکرین جنگ میں ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے درست اعداد و شمار جمع کرنا مشکل ہے، لیکن مختلف ذرائع کے اندازوں کے مطابق جنگ کے آغاز (فروری 2022) سے اب تک ہونے والی ہلاکتیں کئی ہزار سے تجاوز کر چکی ہیں۔
1. اقوام متحدہ (UN) کے اندازے:
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر (OHCHR) کے مطابق، 2023 کے وسط تک تصدیق شدہ 9,000 سے زیادہ شہری ہلاکتیں ہوئی تھیں، لیکن UN نے خبردار کیا کہ اصل تعداد اس سے بہت زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ کئی علاقوں میں مصدقہ اطلاعات کا فقدان ہے۔
2. شہری اموات:
یوکرینی حکام اور مغربی میڈیا کے مطابق، روس کی جانب سے شہری علاقوں پر کیے جانے والے بمباری اور میزائل حملوں کی وجہ سے شہری ہلاکتیں ہزاروں تک پہنچ چکی ہیں۔ کئی بڑے حملوں، جیسے کہ ماریوپول اور بخمت میں، شہری نقصانات بہت زیادہ تھے۔
3. فوجی ہلاکتیں:
- یوکرین کی فوج: مختلف رپورٹوں کے مطابق، یوکرین کی فوج کو بھاری نقصان ہوا ہے۔ یوکرینی حکومت کے اندازے کے مطابق، 60,000 سے 70,000 یوکرینی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
- روسی فوج: مغربی اندازوں کے مطابق، روس کو بھی اسی طرح کے جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق، 50,000 سے 100,000 روسی فوجی مارے جا چکے ہیں، حالانکہ روسی حکومت نے عام طور پر کم ہلاکتوں کا دعویٰ کیا ہے۔
4.
مجموعی تخمینے:
مجموعی طور پر، جنگ کے آغاز سے اب تک اندازہ لگایا جاتا ہے کہ 2,00,000 سے زائد افراد (فوجی اور شہری دونوں) ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں، جس میں دونوں اطراف کی بڑی تعداد شامل ہے۔







0 تبصرے